Friday, 30 December 2011

مسلم ممالک میں انقلا بات کا اصل سبب!

مسلم  ممالک میں انقلا بات کا  اصل سبب!

اہل علم جانتے ہیں کہ انیسوی صدی کے وسط  میں پوری دنیا میں مغربی تہذیب اور ثقافت کا سیلا ب امنڈ پڑا ۔  دنیا کے باقی ممالک کی بجائے اس  کا رخ خاص کر عالم اسلام کی طرف رہا۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ قدیم مذاہب کی انسانی قیادت سے کنارہ کشی کے بعد اسلا م  تنہا عالم گیر انسانی قیادت کا علمبردار رہ گیا تھا ۔ تقریبا  بیسوی صدی  کے وسط تک  ایک ایک کرکے تمام  مسلم ممالک  جیسے ترکی ، مصر، شام ،عراق، تونس ، الجزائر، لیبیا ، ایران، انڈونیشیا وغیرہ، سب مغربی تہذیب کا لقمۂ تر ہو چکے تھے ۔ اور بغیر کسی مزاحمت کے یہ سیلاب ان کو بہا لے گیا ۔
مغربی تہذیب نے مستقبل کی جانب  جو سفر شروع کیا تھا ، وہ  دین و اخلاق اور خوف خدا  کے بغیر کیا تھا ۔ آج اس کی کا میابیوں نے خود اس تہذیب کو خطرہ میں ڈال دیا ہے ۔ اور اندیشہ  ہے کہ وہ خود اپنی آگ میں جل کر خاک نہ ہو جا ئے ۔ بقول اقبال ؒ:
وہ فکر گستاخ جس نے عریاں کیا ہے فطرت کی طاقتوں کو
                          اس کی بے تاب بجلیوں سے خطر میں ہے اس کا آشیانہ
اس وقت بھی اکثر مسلم ممالک میں ایک ذہنی بے چینی اور بغاوت بر پا ہے ۔ آج کل جن عرب ممالک میں عوام اور قیادت کے مابین  معرکہ برپا ہے  اس کی وجہ یہی  ذہنی بے چینی و بغاوت  ہے ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ  عالم اسلام اور مسلم اقوام کی اسلام سے گہری وابستگی ہے  اور جس نام پر جنگ آزادی لڑی اور جیتی گئی یا جس کے سہارے  آزادی کی حفاظت کی گئی۔  سب کا دعوی ہے کہ اس سرزمین پر صرف اسلامی افکا ر واقدار کا حق ہے۔ یہاں صرف اسلامی طرز زندگی کی پیروی  کی جا ے گی ۔ لیکن اس کے بر عکس جس طبقہ کے ہاتھ میں مسلم ممالک کی حکومت  رہی اور ہے، اس کی ذہنی ساخت،  اس کی تعلیم وتربیت،  اس کی طرز زندگی اور اس کی ذاتی وسیاسی مصلحت  کا تقاضا ہے کہ ان ممالک میں مغربی افکا ر اور اقدار کو فروغ دیا جا ئے اور ان ممالک  کو مغربی ممالک کے نقش قدم پر چلا یا جا ئے ۔ اور جو دینی تصورات اور قومی عادات وروایا ت اس مقصد میں مزاحم ہو ں ان کی ترمیم وتنسیخ کی جائے ، ملک ومعاشرہ کو مکمل طور پر  مغربی تہذیب و ثقافت کے سانچے میں ڈال لیا جائے ۔ان میں سے چند کے صرف نام ہی  کافی ہے ، جیسے مصطفی کمال اتاترک ترکی میں ، جمال عبد الناصر مصر میں اور دیگر عالم اسلام میں ان کے پیروکا ر کثیر تعداد میں تا حال موجود ہیں ۔ یہ مسلم لیڈر اپنے مسلمان عوام کی طرف سے بڑی دقت اور مصیبت میں مبتلا رہے ۔اس کی وجہ یہی تھی کہ ان کی قیادت غیر متوازن ،صحیح انتخاب اور فیصلہ کی صلا حیت سے  عاری تھی۔ نظام تعلیم اور ملک کی تنظیم نو کی بنیا د درست منصوبہ بندی اور اسلام کی روح کے مطابق نہیں تھی ۔ اس کے علا وہ سب سے اہم وجہ صحیح اسلامی  تعلیمات وقانون سے انحراف  کی وجہ سے ملک  میں ایسے حالات اور فضا پید ہو گئی تھی جس کو عقل اور انصاف کے لحاظ سے بھی جائز نہیں سمجھا جا سکتا ۔اور نہ  ان میں کسی دور  میں بھی باقی رہنے کی صلا حیت  تھی ۔

تاریخ گواہ ہے کہ مسلم ممالک  میں انقلابا ت کی صلا حیت دوسرے ممالک کے مقابلہ میں اس لئے بھی زیادہ   ہے کہ وہاں بسنے والے اہل اسلام  ہزارہا کمزوریوں کے باوجود دینی جذبہ  سے سرشار ہیں جو احتجاج اور اصلا ح حال کی عملی جد وجہد پر کسی نہ کسی وقت آمادہ کر دیتا ہے ۔ لوگ موجودہ غلط صورت حال سے نجات حاصل کر نے کے لئے تیار رہتے  ہیں ۔ اس لیے مسلم ممالک میں  جب تک عام پسماندگی،ناخوانگی ، اور  ایک کثیر تعداد عوام غربت وافلاس  کے عذاب میں مبتلا  ہے،  جبکہ دوسری طرف حکمران  اور سرمایہ دار کی عیش پرستی  کے افسوس ناک  واقعات زیب داستان ہیں، تو عوام  کا ان  کے خلا ف جنگ کرنے  پر آمادہ ہوجا نا  ہر طرح مناسب اور فطری بات  ہے ۔
مسلم ممالک  کی اندرونی کمزوری اور مغربی ممالک  خاص کر امریکہ  اور اس کے اتحادیوں کی  سیاسی  اور فوجی   مداخلت نے  مسلم ممالک کی قیادت کے سامنے  اس مسئلہ کو سوالیہ نشان  بنا دیا  ہے جس کا  جواب دیے بغیر  کو ئی قیادت آگے نہیں بڑھ سکتی  کہ مغربی تہذیب اور ثقافت  کے بارے میں مسلم ممالک کیا رویہ اختیا ر کر تے ہیں  اور اپنے معاشرہ کو موجودہ زندگی سے ہم اہنگ بنانے اور زمانہ کے تقاضوں کوپورےکر نے کے لئے کون  سا راستہ اختیار کر تے ہیں اور اس میں کس حد تک ذہا نت اور جرات کا ثبوت دیتے ہیں ، پھر دنیا کے نقشہ میں ان  مسلم قوموں کی نوعیت کیا قرار پا تی ہے؟   ان ملکوں میں اسلا م اور مسلمانوں کا کیا مستقبل ہے ؟
مشرق کے دو باہمت اور حوصلہ مند ملک جاپان اور چین نے اس اقدام کا ایک نہایت اور محدود اور اسلام کی نقطۂ نظر سے بہت پست معیار کا  تجربہ کیا ۔  انہوں نے مغرب سے علم اور صنعت میں اس طرح استفادہ کیا کہ  استاد اور شاگر د میں کوئی فرق نہیں رہا  ۔اس کے ساتھ اس نے اپنے قدیم روایات  و ثقافت  بھی قائم رکھے ۔ بد قسمتی سے وہ  زمانہ حال سے   کوئی مطابقت نہیں رکھتی ، بس  چند فرسودہ روایات کا مجموعہ ہے ۔ لیکن اسلا می ممالک  کا معاملہ اس سے مختلف ہے  ان کے پاس ایسا دین، ایسی شریعت اور قانون ہے جس کے لئے جدید اور قدیم کی اصطلا ح بے معنی ہے۔ اس بناء پر عالم اسلام کے لئے جدید سائنس اور ٹیکنا لوجی اور اپنے عقائد وروایات کے درمیان اتحاد اور تعاون  پیدا کرنے میں کو ئی دقت نہیں  ہے۔ ایک مسلمان کے نزدیک دین اور جدید سائنس کے درمیان کوئی  ٹکراؤ نہیں ۔ اس کے نزدیک " حکمت مؤمن کا گم شدہ  مال ہے وہی اس کا حقیقی مالک ہے " اس کے نزدیک وسائل کا خیر وشر  ہو نے کا فیصلہ اس پر منحصر ہے کہ وہ کن مقاصد کے لئے استعمال ہو تے ہیں ۔تعمیر کے لئے  یا تخریب کے لئے ۔
جب تک ان ممالک کے علماء دین  اور اہل دانش اور سیاست دان اپنی ذمہ داری  صحیح طور پر نہیں ادا کریں گے اس وقت تک یہ ممالک اخلاقی اور سیاسی انتشار سے دوچار، عوامی انقلا بات کے لئے ہر وقت تیار رہیں گے۔ یہ ممالک آتش فشاں پہاڑ بنے ر ہیں گے جو کسی  وقت بھی پھٹ سکتا ہے   ۔اس ذہنی  انتشار اوربغاوت سے بچنے کے لئے عوام میں دینی شعور  پیدا کرنا ہوگا ۔ اس بغاوت کے جراثیم کا مکمل خاتمہ کرنے کے لئے معاشرہ میں عمومی اصلاح سیرت اور کردار میں تبدیلی لا نے کی ضرورت ہے مغربی ممالک سے وہ لینا ہوگا جو اسلا می ممالک اور معاشرہ کے لئے مفید ہو اور اس کے عقیدہ سے ہم اہنگ ہو اور جو ملک اور ملت کو مضبوط کرے ۔غرض اسلامی ممالک میں قیام امن کے لئے اور مسلمان اقوام کو اپنے عقیدہ واسلامی زندگی پر قائم رکھنے  کے لئے آج کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ وہ راستہ وہی ہے  جس پر چلنے کے لئے پاکستان بنایا گیا ۔آل مسلم پارٹیز کا نفرنس میں  علا مہ اقبال نے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہو ئی فرما یاتھا:
"جس دین کے تم علمبردار ہو وہ فرد کی قدر وقیمت کو تسلیم کر تا ہے اور اس کی اس طرح تربیت کر تا ہے کہ وہ اپنا سب کچھ خدا اور بندوں میں صرف کر دے اس دین قیم کے مضمرات ابھی ختم نہیں ہو ئے ، یہ دین اب بھی ایک نئی  دنیا پید ا کر سکتا ہے ، جس میں غریب امیروں سے ٹیکس وصول کریں، جس میں انسانی سوسائٹی معدوں کی مساوات پرنہیں بلکہ روحوں کی مساوات پر قائم ہو "
قاعداعظم نے اپنی ایک تقریر میں جو انہوں نے ۱۱  اکتوبر  ۱۹۴۷ کو پاکستان کے بری بحری اور فضائی فوج کے افسران اور سول حکام کے سامنے کی تھی کہا :
" پاکستان کا قیام جس کے لئے ہم دس سال سے کوشاں تھے بفضلہ تعالی اب ایک زندہ حقیقت ہے لیکن خود اپنی مملکت کا قیام ہمارے مقصد کا صرف ایک ذریعہ تھا ، اصل مقصد نہیں تھا منشا یہ تھا کہ ایسی مملکت قائم ہو جس میں ہم آزاد انسانوں کی طرح رہیں ، جس کو ہم اپنے مزاج اور ثقافت کے مطابق ترقی دیں اور جس میں اسلامی عدل اجتماعی کے اصول آزادی کے ساتھ برتے جائیں ۔"
لیاقت علی خان  نے ۱۴ جنوری  ۱۹۴۷کو پشاور کے ایک اجتماع میں کہا :
" پاکستان ہمارے  لئے ایک تجربہ گاہ ہے اور ہم دنیا کو دکھلا ئیں گے کہ تیرہ سو برس پرانے اسلا می اصول کس قدر کا ر آمد ہیں ”
ایک دوسرے موقعہ پر ۱۹۵۰  میں انہوں نے ایک تقریر میں کہا :
" ہم نے پاکستان کا مطالبہ اس بناء پر کیا تھا کہ مسلمان اپنی زندگی اسلا می احکام کے  قالب میں ڈھالیں ، ہم نے ایک ایسے معمل ( تجربہ گاہ ) کے قیام کا مطالبہ کیا تھا ، جہاں ایک ایسی حکومت بنائی جا سکے جو اسلا می اصولوں پر مبنی ہو ، جن سے بہتر اصول دنیا پیدا نہیں کر سکی " ( نوائے وقت ۔ ۸ جنوری  ۱۹۵۰ )
لیکن ا س کے بر عکس پا کستان میں  مغربی افکا ر واقدار کو  میڈیا اور صحافت کے ذریعہ ذہنی اور اخلا قی سانچہ کو تبدیل کر نےکے لیے ایک ایسی نسل کی تیاری کا کام زیادہ عزم اور منصوبہ بندی کے ساتھ شروع ہوگیا  جو مغربی تہذیب اور طرز حکومت کو آسانی کے ساتھ قبول کرسکے ۔بہر حال پاکستان اپنے بنیادی مقاصد سے انحراف اور دوسری حکومتوں کی تقلید میں اس نے ان کروڑوں افراد کے ساتھ بیوفائی کی جنہوں نے اس اسلا می تجربہ گاہ کے قیام کے لیے شدید ترین تکالیف برداشت کیں اور عظیم قربانی پیش کی ۔
پروفیسر اسمتھ پاکستان کی اس نازک اخلاقی ذمہ داری کو بڑے اچھے انداز میں بیان کیا وہ اپنی کتابIslam in modern History) ) میں لکھتے ہیں " شاید پاکستانی کسی وقت یہ خیال کریں کہ اسلا می معاشرہ کی تعمیر کا کام ان کے ابتدائی اندازہ سے کہیں زیادہ دشوار طلب ہے لیکن سوچاجائے تو ان کے لئے کوئی راہ مفر باقی نہیں ،۔۔۔بہر حال وہ اسلامی ریاست کے تصورات کو نظر انداز نہیں کر سکتے اور نہ اسے زیادہ دیر سر د خانہ ہی کی نذر کر سکتے ہیں کیونکہ اس وقت اسلامی ریاست کے نظریہ کو ختم کر نے کا فیصلہ محض طریق کا ر کی تبدیلی کا فیصلہ ہی نہیں ہو گا ، یہ تو گویا پنے دین اور وطن کی اساس پر کلہاڑا چلا نے کے مرادف ہو گا اور تمام دنیا اس گریز سے یہی مطلب اخذ کر ے گی کہ اسلا می ریاست کا نظریہ لا یعنی اور اس کا نعرہ محض فریب نظر تھا، جو حیات جدید کے تقاضوں سے نپٹنے کی صلا حیت نہیں رکھتا یا یہ پا کستا نی  بحیثیت ایک قوم کے اسے اپنی قومی زندگی پر نا فذ کر نے میں ناکا م رہے ہیں ۔ اس صورت میں دنیا کے نزدیک خود مسلمانوں کے معتقدات ایمانی ہی مشکوک اور قابل تنقید ٹھہریں گے " ( " چراغ راہ "  نظریہ پاکستان نمبر )
اس افسوس نا ک صورت حال  پر جو اسوقت عرب ممالک اور عالم اسلا م، خاص کر پا کستان کو درپیش ہے ، قابو پا نے کے لیےعوام اور حکمرانوں اور اہل دانش  ، علماء اسلا م لیے بڑے عزم ، جرات ، قربانی اور بڑے انقلا بی اقدام کی ٖضرور ت ہے ۔